مہمان نوازی کے طور طریقے

in Parent Club5 years ago

مہمان سے بات کرنا

حضرت مفتی شفیع صاحب کے پاس ایک صاحب آیا کرتے تھے۔

وہ باتیں بہت کرتے تھے، جب کبھی آئے تو بس اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیتے، اور رکنے کا نام نہ لیتے۔

ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ رہا ہے کہ اگر کوئی شخص مہمان بن کے ملنے کے لئے آتا تو اس کا اکرام کرتے، اس کی بات سنتے، اور یہاں تک کہ اس کی تشفی کی کوشش کرتے۔

یہ کام مصروف آدمی کے لئے بڑا مشکل ہے، جن لوگوں کی زندگی مصروفیات سے بھری ہو، وہ جان سکتے ہیں کہ یہ کتنا مشکل کام ہے۔

لیکن حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ جب آپ سے کوئی شخص ملنے کے لئے آتا، آپ سے بات کرنا شروع کرتا تو آپ اس کی طرف سے کبھی منہ نہیں موڑتے تھے، جب تک وہ خود ہی منہ نہ موڑ لے، اس کی بات سنتے رہتے تھے۔

ہمیں اپنے بچوں کو دوسروں سے بات چیت کے طور طریقوں سے آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔
خصوصا جب کوئی آپ سے بات کرے اس کی بات کو پوری طرح توجہ سے سنیں۔یہ تب مُمکن ہو گا جب والدین خود مہمان نواز ہوں۔اللہ ہمیں سمجھ بوجھ کی توفیق دے آمین

جزاک اللّہ۔

@rem-steem