"معلومات اور مسکراہٹوں سے بھرا ایک دن " |@aliraza51214

1000024738.png

تصویر کینوا سے بنائی گئی ہے

!دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو میرا سلام۔۔۔۔۔
دیکھیں دستورِ زندگی کا اچھا ہونا ایک بہت ہی اچھی اور اہم بات ہے ۔اور میں شکر گزار ہوں اس خدا کا جس نے مجھے ایک اچھی زندگی بخشی کائنات کی خوبصورتی تب تک اپ کو خوبصورت لگتی ہے جب تک اپ کا چہرہ دنیا کی اس بھیڑ میں ہر طرح کے غم سے آزادی محسوس کرتا ہے ۔
میں اسی طرح خوش ہوں ۔اور میری کائنات بھی خوش ہے ۔اور میرے گرد رہنے والے لوگ بھی خوش ہیں۔
میں وہ ہوں جو میرا ماحول ہے ۔اور میرا ماحول وہ ہے جو میں ہوں ۔
آج چلتے ہیں میرے اس خوبصورت ماحول میں جسکا میں ایک خوبصورت دن آپکے ساتھ شئیر کرنے لگا ہوں ۔
یہ وہ دن تھا جس میں میں نے ہر قسم کے کسک کو متروک کیا
جس کی وجہ سے میری زیست کے کمرے میں روشنی گنگناتی رہتی ہے ۔

کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے شہر کی پکڈنیوں پر خوشی کے کچھ سنہری پل بکھرے پڑے ہیں

اور میں آئے روز ان راستوں پر سے وہ خوشی بانٹنے والے پھول چنتا رہتا ہوں اور اپنی جیبوں کو بھرے رکھتا ہوں اور اسی طرح میرے جیب کے باغیچے میں کبھی بھی خوشیوں کی کمی نہیں ہوتی ۔

دوستو جیسے آئینہ آپ کو عکس دکھا رہا ہوتا ہے ایسے ہی میری پوسٹ آپ کو بس خوشی کے عکس دکھا رہی ہوتی ہے آپ یوں نہ سمجھیں کہ مخلوق خدا کے اس لکھاری میں غمی کے آثار ہی نہیں ۔
بلکہ میں پردے کے اس پار کا نظارا دکھانا بہتر نہیں سمجھتا جس میں چند کرخت قسم کے منظر ہوں

تو آئیے چلتے ہیں اپنی پوسٹ کی جانب ایسی ہی تاریخ سموئی باتیں آپ کو میری پوسٹ سے ملتی رہیں گی کیونکہ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا ہاہاہا یہ ایک مشہور چینل ایکسپریس پر دکھائے جانے والے سیریل سے لیا گیا جملہ ہے

1000015124.png

میں صبح اٹھا اور خدا کی بارہ گاہ میں اسکی تعریف کرنے لگا ۔
کیوں کے اول آنکھ اور دماغ کو تازگی بخشنے کیلئے میں خدا کی عبادت لازمی کرتا ہوں

1000024166.jpg

پھر اس کے بعد امی جان نے ناشتہ تیار کیا ۔
جس سے میں نے پیٹ بھر کے کھایا۔
اس خوبصورت صبح کو میری والدہ محترمہ نے ایک نہایت ہی لذیز قسم کا ناشتہ بنایا ۔
جس میں ایک عدد پراٹھا اور وہی دیسی مزاج رکھنے والے بندوں کی طرح میں نے بھی ایک کپ چائے کا ساتھ لیا اور خوب پیٹ بھر کے ناشتہ کیا۔

ناشتہ کرنے کے بعد مجھے کوئی کام نہ تھا تو میں اپنے رشتہ داروں کے گھر چلا گیا ۔
جیسے ہی میں ان کے گھر داخل ہوا تو دیوار کا سایہ چھوڑنے کے بعد ایک کونے پر چند بکریوں نے میرا استقبال کیا جو اپنا خوبصورت چہرہ کھولے بابابابا کر رہی تھیں ۔

میں نے زندگی کے کچھ حسین لمحات ان کے سپرد کیے اور پھر ان کی محفل میں شامل ہو گیا۔
جیسے ہی میں گھر والوں کی محفل میں بیٹھا تو میں نے سنا کہ ان کا موٹر بائیک جو ہے وہ خراب ہو گیا ہے تو اس کے اوزاروں کی کھوج کی جا رہی ہے تو مجھے یہ یقین تھا کہ میرے گھر میں چند اوزار پڑے ہیں جو اس موٹرک بھائی کا آپریشن کریں گے اور اس سے ایک دم فٹ کر دیں گے ۔

1000024176.jpg

جیسے ہی ان کی بائک ٹھیک ہوئی تو ہم دو چار لمحے وہاں بیٹھے ان کے ساتھ گپ شپ لگائی اور یوں ہی تھوڑا سا وقت ہنستے کھیلتے وہیں پر گزر گیا۔
قریب ہی ایک چارپائی پر بیٹھی ایک مہذب محترمہ نے اپنی بیٹی کو تیار کرنا شروع کیا کیونکہ موصوف جو ہے وہ ہمارے گھر مہمان ٹھہری ہوئی تھی تو انہوں نے بیٹی کو ہار سنگ ہار کرنا بہتر سمجھا تو میں بھی پاس بیٹھا تھا تو میں اسکی ادھورہ خوبصورتی کو کیمرے کی مدد سے قید کرنے لگا پڑا ۔
اور قریب پڑی ہوئی اسکی بالوں کی چوٹکیوں کو دیکھنے لگ پڑا ۔اس میں سے ایک بہت خوبصورت تھی جسکی میں نے تصویر بنا لی جو کے آپ کو میں کو دیکھا سکوں ۔

1000024179.jpg

آدھا وقت یہاں گزر گیا پھر میں واپس آیا اور ایک نئے ناول کو پڑھنے لگ پڑا وہ ناول بہت ہی معروف ناول ہے کیونکہ وہ بہت ہی مشہور ہستی کا لکھا ہوا ہے اس ناؤل کا نام بہاؤ ہے اور اس کے لکھاری کا نام مستنصر حسین تارڑ ہے جس نے اپنی لکھاوٹ کے جادو سے دنیا کو موہنجوڈارو اور سرسوتی اور دیگر دریاؤں کے قریب رہنے والے لوگوں کی داستان بتائی ہے ۔

اس ناؤل کی خاص بات یہ ہے کہ جیسے ہی انسان اس ناؤل کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ کہانی کے اتار چڑھاؤ میں ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے اور خود کو وہ اس کہانی کا ایک کردار سمجھنے لگتا ہے اور میرے خیال سے یہی ایک بات ہے جو ایک اچھے ناؤل نگار میں ہونی چاہیے کہ جب کبھی بھی کوئی اس کا ناول پڑھے تو وہ ایسا محسوس کرے کہ جیسے وہ خود اس ناول کا کوئی کردار ہے

1000024174.jpg

ناؤل کو اختتام پذیر کرنے کے بعد میں نے قدرت کے کچھ حسین مناظر اپنے کیمرے میں مقید کیے تاکہ یہ میرے کیمرے میں ایک یاد بن کر رہ جائیں وہ مناظر پھولوں سے جڑے ہیں جو میں اپ کے گوش و گزار کرتا ہوں

1000024171.jpg1000024175.jpg

مسلسل ناؤل پڑھنے کے بعد اور ایک اچھی خاصی گفتگو کے بعد مجھے ہلکی پھلکی بھوک بھی لگ گئی پھر میں نے قریب کی ایک دکان سے اپنے لیے کچھ چیزیں منگوائی جس سے میں نے اپنی ہلکی پھلکی بھوک کو ختم کیا ۔

1000024464.jpg
اس کے بعد میرے کزن جو ہیں وہ بطور مہمان ہمارے گھر آئے ہوئے تھے تو انہوں نے ہمیں گھڑیاں دیکھائی جو وہ ہمارے لیے ایک تحفے کے طور پر لائے تھے وہ بہت ہی خوبصورت تھیں اور انکھوں کو اچھی لگ رہی تھی۔

1000024267.jpg1000024266.jpg

گھڑیاں دیکھنے کے بعد وقت کافی ہو گیا تھا اور میں بھی اچھا خاصا تھک گیا تھا پھر میں نے شام کی نماز ادا کی اور کھانا کھانے کے بعد سو گیا اور اسی کے ساتھ میں نے اپنا دن جو ہے وہ اختتام تک پہنچایا ۔
فی امان اللہ ملتے ہیں اگلی پوسٹ میں تب تک اپنا خیال رکھیں ۔

@hammad-historian
@sabtainkhan
@aliabid01

Sort:  

تارڑ صاحب ۔۔۔اردو ادب کا کیا ہی جاندار نام ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کو پڑھا جائے اور ان کا پرستار نہ ہوا جائے۔ لوگوں کو قلعہ جنگی اور پیار کا پہلا شہر جیسے ناول زیادہ پسند آتے ہیں مگر بہاؤ پڑھنے کے بعد مجھے لگا یہ سب سے بہترین ہے۔ مستنصر حسین کا ماحولیاتی تبدیلی پہ لکھا جانے والا یہ ناول کمال کی منظر نگاری لیے ہوئے ہے۔ کتاب کا پہلا صفحہ پلٹتے ہی ہم صدیوں پہلے کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور لگتا ہے جیسے ہمارے سارے دریا بھی گھاگھرا کے ساتھ سوکھتے جا رہے ہیں۔
پکلی کا کردار جتنا
enagmatic
تھا
اتنا ہی
relatable
بھی تھا ۔۔۔ہمیشہ یاد رہ جانے کی خواہش ۔۔۔۔۔۔!
سب سے دلچسپ بات ناول میں استعمال ہونے والے کچھ پنجابی لفظ تھے۔۔۔۔جیسے لشکنا ، رکھ ، الیکنا۔۔۔۔
You should get this @aminasafdar and you can tell about "niklay teri talsah mn"
تارڑ صاحب منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھتے ہیں شاید اسی لیے ہم ان کو جس طرح سے سمجھ سکتے ہیں ویسے کوئی اور نہیں جان سکتا ۔تو علی بھائی آپ کو تارڑ صاحب کی کونسی کتاب سب سے زیادہ پسند ہے۔

Loading...
 last year 

Hola, en nuestra comunidad solo están permitidas las publicaciones en español o portugués, al realizar la traducción con gusto te verificaremos.

Next time insha'Allah,I will keep it my mind and thanks mam for positive feedback.

 last year 

Commet Formate.png
Curated by: @bossj23