"معلومات اور مسکراہٹوں سے بھرا ایک دن " |@aliraza51214
!دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو میرا سلام۔۔۔۔۔
دیکھیں دستورِ زندگی کا اچھا ہونا ایک بہت ہی اچھی اور اہم بات ہے ۔اور میں شکر گزار ہوں اس خدا کا جس نے مجھے ایک اچھی زندگی بخشی کائنات کی خوبصورتی تب تک اپ کو خوبصورت لگتی ہے جب تک اپ کا چہرہ دنیا کی اس بھیڑ میں ہر طرح کے غم سے آزادی محسوس کرتا ہے ۔
میں اسی طرح خوش ہوں ۔اور میری کائنات بھی خوش ہے ۔اور میرے گرد رہنے والے لوگ بھی خوش ہیں۔
میں وہ ہوں جو میرا ماحول ہے ۔اور میرا ماحول وہ ہے جو میں ہوں ۔
آج چلتے ہیں میرے اس خوبصورت ماحول میں جسکا میں ایک خوبصورت دن آپکے ساتھ شئیر کرنے لگا ہوں ۔
یہ وہ دن تھا جس میں میں نے ہر قسم کے کسک کو متروک کیا
جس کی وجہ سے میری زیست کے کمرے میں روشنی گنگناتی رہتی ہے ۔
کبھی کبھار مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے شہر کی پکڈنیوں پر خوشی کے کچھ سنہری پل بکھرے پڑے ہیں
اور میں آئے روز ان راستوں پر سے وہ خوشی بانٹنے والے پھول چنتا رہتا ہوں اور اپنی جیبوں کو بھرے رکھتا ہوں اور اسی طرح میرے جیب کے باغیچے میں کبھی بھی خوشیوں کی کمی نہیں ہوتی ۔
دوستو جیسے آئینہ آپ کو عکس دکھا رہا ہوتا ہے ایسے ہی میری پوسٹ آپ کو بس خوشی کے عکس دکھا رہی ہوتی ہے آپ یوں نہ سمجھیں کہ مخلوق خدا کے اس لکھاری میں غمی کے آثار ہی نہیں ۔
بلکہ میں پردے کے اس پار کا نظارا دکھانا بہتر نہیں سمجھتا جس میں چند کرخت قسم کے منظر ہوں
تو آئیے چلتے ہیں اپنی پوسٹ کی جانب ایسی ہی تاریخ سموئی باتیں آپ کو میری پوسٹ سے ملتی رہیں گی کیونکہ کوئی دیکھے نہ دیکھے شبیر تو دیکھے گا ہاہاہا یہ ایک مشہور چینل ایکسپریس پر دکھائے جانے والے سیریل سے لیا گیا جملہ ہے
میں صبح اٹھا اور خدا کی بارہ گاہ میں اسکی تعریف کرنے لگا ۔
کیوں کے اول آنکھ اور دماغ کو تازگی بخشنے کیلئے میں خدا کی عبادت لازمی کرتا ہوں
پھر اس کے بعد امی جان نے ناشتہ تیار کیا ۔
جس سے میں نے پیٹ بھر کے کھایا۔
اس خوبصورت صبح کو میری والدہ محترمہ نے ایک نہایت ہی لذیز قسم کا ناشتہ بنایا ۔
جس میں ایک عدد پراٹھا اور وہی دیسی مزاج رکھنے والے بندوں کی طرح میں نے بھی ایک کپ چائے کا ساتھ لیا اور خوب پیٹ بھر کے ناشتہ کیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد مجھے کوئی کام نہ تھا تو میں اپنے رشتہ داروں کے گھر چلا گیا ۔
جیسے ہی میں ان کے گھر داخل ہوا تو دیوار کا سایہ چھوڑنے کے بعد ایک کونے پر چند بکریوں نے میرا استقبال کیا جو اپنا خوبصورت چہرہ کھولے بابابابا کر رہی تھیں ۔
میں نے زندگی کے کچھ حسین لمحات ان کے سپرد کیے اور پھر ان کی محفل میں شامل ہو گیا۔
جیسے ہی میں گھر والوں کی محفل میں بیٹھا تو میں نے سنا کہ ان کا موٹر بائیک جو ہے وہ خراب ہو گیا ہے تو اس کے اوزاروں کی کھوج کی جا رہی ہے تو مجھے یہ یقین تھا کہ میرے گھر میں چند اوزار پڑے ہیں جو اس موٹرک بھائی کا آپریشن کریں گے اور اس سے ایک دم فٹ کر دیں گے ۔
جیسے ہی ان کی بائک ٹھیک ہوئی تو ہم دو چار لمحے وہاں بیٹھے ان کے ساتھ گپ شپ لگائی اور یوں ہی تھوڑا سا وقت ہنستے کھیلتے وہیں پر گزر گیا۔
قریب ہی ایک چارپائی پر بیٹھی ایک مہذب محترمہ نے اپنی بیٹی کو تیار کرنا شروع کیا کیونکہ موصوف جو ہے وہ ہمارے گھر مہمان ٹھہری ہوئی تھی تو انہوں نے بیٹی کو ہار سنگ ہار کرنا بہتر سمجھا تو میں بھی پاس بیٹھا تھا تو میں اسکی ادھورہ خوبصورتی کو کیمرے کی مدد سے قید کرنے لگا پڑا ۔
اور قریب پڑی ہوئی اسکی بالوں کی چوٹکیوں کو دیکھنے لگ پڑا ۔اس میں سے ایک بہت خوبصورت تھی جسکی میں نے تصویر بنا لی جو کے آپ کو میں کو دیکھا سکوں ۔
آدھا وقت یہاں گزر گیا پھر میں واپس آیا اور ایک نئے ناول کو پڑھنے لگ پڑا وہ ناول بہت ہی معروف ناول ہے کیونکہ وہ بہت ہی مشہور ہستی کا لکھا ہوا ہے اس ناؤل کا نام بہاؤ ہے اور اس کے لکھاری کا نام مستنصر حسین تارڑ ہے جس نے اپنی لکھاوٹ کے جادو سے دنیا کو موہنجوڈارو اور سرسوتی اور دیگر دریاؤں کے قریب رہنے والے لوگوں کی داستان بتائی ہے ۔
اس ناؤل کی خاص بات یہ ہے کہ جیسے ہی انسان اس ناؤل کو پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ کہانی کے اتار چڑھاؤ میں ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے اور خود کو وہ اس کہانی کا ایک کردار سمجھنے لگتا ہے اور میرے خیال سے یہی ایک بات ہے جو ایک اچھے ناؤل نگار میں ہونی چاہیے کہ جب کبھی بھی کوئی اس کا ناول پڑھے تو وہ ایسا محسوس کرے کہ جیسے وہ خود اس ناول کا کوئی کردار ہے
ناؤل کو اختتام پذیر کرنے کے بعد میں نے قدرت کے کچھ حسین مناظر اپنے کیمرے میں مقید کیے تاکہ یہ میرے کیمرے میں ایک یاد بن کر رہ جائیں وہ مناظر پھولوں سے جڑے ہیں جو میں اپ کے گوش و گزار کرتا ہوں
![]() | ![]() |
|---|
مسلسل ناؤل پڑھنے کے بعد اور ایک اچھی خاصی گفتگو کے بعد مجھے ہلکی پھلکی بھوک بھی لگ گئی پھر میں نے قریب کی ایک دکان سے اپنے لیے کچھ چیزیں منگوائی جس سے میں نے اپنی ہلکی پھلکی بھوک کو ختم کیا ۔

اس کے بعد میرے کزن جو ہیں وہ بطور مہمان ہمارے گھر آئے ہوئے تھے تو انہوں نے ہمیں گھڑیاں دیکھائی جو وہ ہمارے لیے ایک تحفے کے طور پر لائے تھے وہ بہت ہی خوبصورت تھیں اور انکھوں کو اچھی لگ رہی تھی۔
![]() | ![]() |
|---|
گھڑیاں دیکھنے کے بعد وقت کافی ہو گیا تھا اور میں بھی اچھا خاصا تھک گیا تھا پھر میں نے شام کی نماز ادا کی اور کھانا کھانے کے بعد سو گیا اور اسی کے ساتھ میں نے اپنا دن جو ہے وہ اختتام تک پہنچایا ۔
فی امان اللہ ملتے ہیں اگلی پوسٹ میں تب تک اپنا خیال رکھیں ۔










تارڑ صاحب ۔۔۔اردو ادب کا کیا ہی جاندار نام ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کو پڑھا جائے اور ان کا پرستار نہ ہوا جائے۔ لوگوں کو قلعہ جنگی اور پیار کا پہلا شہر جیسے ناول زیادہ پسند آتے ہیں مگر بہاؤ پڑھنے کے بعد مجھے لگا یہ سب سے بہترین ہے۔ مستنصر حسین کا ماحولیاتی تبدیلی پہ لکھا جانے والا یہ ناول کمال کی منظر نگاری لیے ہوئے ہے۔ کتاب کا پہلا صفحہ پلٹتے ہی ہم صدیوں پہلے کی دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور لگتا ہے جیسے ہمارے سارے دریا بھی گھاگھرا کے ساتھ سوکھتے جا رہے ہیں۔
پکلی کا کردار جتنا
enagmatic
تھا
اتنا ہی
relatable
بھی تھا ۔۔۔ہمیشہ یاد رہ جانے کی خواہش ۔۔۔۔۔۔!
سب سے دلچسپ بات ناول میں استعمال ہونے والے کچھ پنجابی لفظ تھے۔۔۔۔جیسے لشکنا ، رکھ ، الیکنا۔۔۔۔
You should get this @aminasafdar and you can tell about "niklay teri talsah mn"
تارڑ صاحب منڈی بہاوالدین سے تعلق رکھتے ہیں شاید اسی لیے ہم ان کو جس طرح سے سمجھ سکتے ہیں ویسے کوئی اور نہیں جان سکتا ۔تو علی بھائی آپ کو تارڑ صاحب کی کونسی کتاب سب سے زیادہ پسند ہے۔
Hola, en nuestra comunidad solo están permitidas las publicaciones en español o portugués, al realizar la traducción con gusto te verificaremos.
Next time insha'Allah,I will keep it my mind and thanks mam for positive feedback.
Curated by: @bossj23