پرانے زمانے میں گھوڑے کی اہمیت اور... قرآن مجید میں اس کا زکر
پرانے زمانے میں گھوڑے کی اہمیت
پرانے زمانے میں عربوں کو گھوڑوں سے بہت زیادہ پیار تھا وہ گھوڑوں کو اپنی اولاد پر فضیلت دیتے تھے۔ جس شخص کے پاس گھوڑا نہ ہوتا تو اسے قوم طعنے دیا کرتی تھی
عربوں کے قبیلوں کے سردار گھوڑوں کی خدمت خود کیا کرتے تھے۔
وہ یہ کام غلاموں سے نہیں لیتے تھے بلکہ خود سردار یہ کام کیا کرتے تھے
قبیلوں کے سرداروں کےلئے 3 کام کرنے میں عار نہیں تھی والد، مہمان اور گھوڑے کی خدمت کرنا
اسلام نے بھی گھوڑوں کی اہمیت اور افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے پالنے کی ترغیب دی۔ گھوڑوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے
قسم ہے ان (گھوڑوں)
کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑ تے ہیں، پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں۔
رسول اکرم نے بھی گھوڑوں کی تکریم میں فرمایا
جس نے جہاد فی سبیل اللہ کےلئے گھوڑا پالا اسے روزہ دار کے مثل اجر ملے گا اور جس نے گھوڑے کو کھلانے ، پلانے اور پالنے پر خرچ کیا تو اس کا خرچ صدقہ شمار کیا جائےگا۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا
بھلائی گھوڑوں کی پیشانی پر تاقیامت ثبت رہے گی۔
آپ نے گھوڑوں کی تذلیل و تحقیر کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔آپ نے گھوڑوں کی دم کاٹنے سے ، خصی کرنے سے اور پیشانی کے بال کاٹنے سے بھی منع فرمایا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ گھوڑے کی فطرت میں اِترانا شامل ہے۔ ایسا کرنے سے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عربوں نے جس طرح اپنی نسل اور نسب کا خیال رکھا ، اسی طرح گھوڑوں کی نسب ونسل کا بھی خیال رکھا
گھوڑوں کا شوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ دنیا میں
مختلف نسل کے گھوڑوں کی اپنی اہمیت ہے مگر عربی نسل گھوڑا دنیا بھر میں اپنا مقام رکھتا ہے۔ یہ خالص نسل کا گھوڑا بھی ماہرین کے نزدیک کئی درجے رکھتا ہے۔گھوڑے نہ صرف سواری کےلئے کام آتے ہیں بلکہ عربوں کی گھوڑوں سے محبت معروف تھی۔ وہ اپنے گھوڑوں سے اس قدر محبت کرتے تھے جیسے کوئی آدمی اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے۔
علامہ جاحظؒ نے لکھا ہے
عربوں کی طرح دنیا کی کوئی قوم نہیں جو گھوڑوں سے اتنا شغف رکھتی ہو، نہ ہی کوئی قوم دنیا میں ایسی ہے جسے عربوں سے زیادہ گھوڑوں کا علم ہو۔ گھوڑے کا عرب کی زندگی سے نہ صرف گہرا تعلق ہے بلکہ یہ ان کی زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عربوں کی زبان، شعر وادب میں گھوڑوں کا بہت زیادہ ذکر ہے
گھوڑے نہ صرف سواری اور کھیل کے میدان میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ اہم ترین جنگی سامان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عربوں کے دانشور.... اکثم بن صیفی
.. نے اپنی قوم کو وصیت کی
اے میری قوم! گھوڑے پالو اور ان کی تکریم کرنا سیکھو، یہ عرب کے قلعے ہیں
الحمدللہ. اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ میں نے اپنے گھر میں ایک گھوڑا اور ایک گھوڑی دو پال رکھے ہیں اور میں اکثر گھوڑے پر سواری کرتا رہتا ہوں
Special Thanks
@yousafharoonkhan
@rashid001 @jlufer and @janemorane
@r2cornell
Regards







Keep it up dear
Thanks