my name is abdullah12345 and my steemit user name is abdullah12345

مغرب کا وقت تھا۔ آسمان کا رنگ ہلکا نیلا سے ہلکا جامنی ہو رہا تھا۔ دیپالپور کی ایک پرانی چھت پر بلال کھڑا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

اس نے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک چھوٹا سا ہلال، آدھا چاند، بالکل اکیلا چمک رہا تھا۔ اس چاند کے نیچے زمین پر لوہے کا ایک بہت اونچا بجلی کا ٹاور کھڑا تھا۔ ٹاور سے نکلی ہوئی کالی تاریں ایک سیدھ میں دورu تک جا رہی تھیں۔

بلال کو لگا جیسے دونوں آپس میں بات کر رہے ہیں۔

ٹاور نے کہا، "اے چاند، تو کتنا خوش نصیب ہے۔ تو اوپر رہتا ہے،u سب تجھے دیکھتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں۔ میں یہاں نیچے دن رات کھڑا رہتا ہوں، آندھی ہو یا بارش، مجھے سب کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔"

چاند مسکرایا اور بولا، "تم غلطu سمجھ رہے ہو دوست۔ میں بھی تو آدھا ادھورا ہوں۔ کبھی پورا ہوتا ہوں، کبھی غائب ہو جاتا ہوں۔ لوگ مجھے دیکھتے ضرور ہیں، لیکن چھو نہیں سکتے۔ تم تو زمین سے جڑے ہو۔ تمہاری وجہu سے گھروں میں روشنی ہے، پنکھے چلتے ہیں۔ تمہارا کام مجھ سے زیادہ قیمتی ہے۔"

ٹاور خاموش ہو گیا۔

بلال یہ خیالی بات سن کرu سوچنے لگا۔ اسے سمجھ آیا کہ ہر چیز کا اپنا مقام ہے۔ چاند کا کام رات کو روشنی دینا ہے، چاہے وہ آدھا ہی کیوں نہ ہو۔ ٹاور کا کام زمین پر کھڑے رہ کر لوگوں کو جوڑنا ہے۔

کوئی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ کوئی اکیلا نہیں ہوتا۔

آدھا چاند بھی پورا ہوتا ہے، بس وقت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اور اونچا ٹاور بھی اکیلا نہیں ہوتا، اس کی تاریں اسے ساری دنیا سے جوڑے رکھتی ہیں۔

بلال نے دل میں کہا، میں بھی اسی چاند اور ٹاور کی طرح اپنی جگہ پر مضبوط کھڑا رہوں گا۔

18f2534b-4e3c-46eb-8da5-117628d884f8.jpg