“پیسہ وہ نوکر ہے جو سمجھدار انسان کی خدمت کرتا ہے، مگر وہی پیسہ ناسمجھ انسان کا مالک بن جاتا ہے۔”
یہ قول ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پیسہ بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا بلکہ اس کا استعمال انسان کے رویّے پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر انسان عقل محنت اور ایمانداری کے ساتھ پیسے کو استعمال کرے تو یہی پیسہ اس کی زندگی آسان بنادیتاہے، اسے ترقی، سکون اور مواقع فراہم کرتا ہے۔
لیکن اگر انسان پیسے کا غلام بن جائے، حرص اور لالچ کو اپنا مقصد بنا لے تو یہی دولت اس کے اخلاق، رشتوں اور سکون کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس لیے کامیاب وہی ہے جو پیسے کو اپنے قابو میں رکھے، نہ کہ خود پیسے کے قابو میں آ جائے۔
