کے ٹو: دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی
کے ٹو، جسے ماؤنٹ گاڈون آسٹن کہا جاتا ہے، دنیا کا دوسرا سب سے اونچا پہاڑ ہے۔ اس کی بلندی تقریباً 8611 میٹر ہے۔ یہ بلند و بالا چوٹی قراقرم سلسلے میں واقع ہے اور پاکستان و چین کی سرحد کے نزدیک کھڑی ہے۔ کے ٹو صرف اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی سختی اور خطرناک حالات کی بنا پر بھی بہت مشہور ہے۔ لوگ اسے دنیا کے مشکل ترین پہاڑوں میں شمار کرتے ہیں۔
پہلی بار 1856 میں ایک برطانوی سروے ٹیم نے اسے نوٹ کیا۔ اس کو "کے ٹو" اسی سلسلے کی دوسری چوٹی ہونے کی نسبت سے نام دیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہی نام اس کی پہچان بن گیا۔ عجیب بات ہے کہ اور بہت سے پہاڑوں کے برعکس, کے ٹو کے لیے کوئی مقامی نام عام زبان میں کبھی نہیں اپنایا گیا۔
یہ پہاڑ کوہ پیماؤں کے لیے واقعی ایک بڑا امتحان ہے۔ اس کی ڈھلوانیں بہت تیز ہیں، موسم سرد اور غیر یقینی، اور برفانی طوفان ہر وقت دم بہ دم آ سکتے ہیں۔ اسی لیے کے ٹو پر چڑھائی کرنا ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی زیادہ مشکل مانا جاتا ہے۔
کے ٹو کو پہلی بار 1954 میں ایک اطالوی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے سر کیا۔ ان کی کامیابی نے کوہ پیمائی کی دنیا میں تاریخ رقم کی۔ تب سے کئی ماہر کوہ پیما اس چوٹی پر چڑھنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن ہر سال کامیابی ہمیشہ کم ہی رہی۔
یہ پہاڑ صرف مہم جو لوگوں کو ہی نہیں اپنی طرف کھینچتا، بلکہ اس کا قدرتی حسن بھی لاجواب ہے۔ برف سے اوپر تلے ہوئے پہاڑ، نیلا آسمان، اور سنسان وادیاں ہر دیکھنے والے کو حیران کر دیتی ہیں۔ لیکن اس کے خطرے اور سختی کی وجہ سے، یہ صرف بہترین اور تجربہ کار کوہ پیماؤں کے لیے ہی موزوں ہے۔
بالآخر، کے ٹو قدرت کی عظیم تخلیق ہے — یہ انسان کے حوصلے، عزم اور ہمت کا اصل امتحان ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کی عظمت
ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک حیران کن قدرتی ورثہ بھی ہے۔
