Yehi zindgi hy
سرخی مائل دھوپ کمرے میں ادھر ادھر بکھر رہی تھی اور میں اپنے والد کے پرانے اسٹیمر پریس کو دیکھ رہا تھا جو میز پر پڑا تھا۔
"ابا، یہ کیسے چلتا ہے؟" میں نے پوچھا۔
وہ مسکرائے۔ "دیکھتا ہے؟" انہوں نے اسٹیمر میں پانی ڈالا اور بٹن دبایا۔ بھاپ اٹھی اور کپڑے کی شکنیں غائب ہوگئیں۔
"بس یہی زندگی ہے بیٹا،" انہوں نے کہا۔ "گرمی اور بھاپ سے تم ہر شکن دور کرسکتے ہو۔"
میں نے اسٹیمر اٹھایا۔ وہ ان کے ہاتھوں میں بالکل مختلف لگتا تھا، ہلکا پھلکا۔ میرے ہاتھ میں بھاری تھا۔ شاید اس لیے کہ ان کے ہاتھوں نے اسے برسوں سنبھالا تھا۔
آج وہ نہیں ہیں۔ لیکن جب بھی میں اسٹیمر چلاتا ہوں، بھاپ کے ساتھ ان کی مسکراہٹ اٹھتی ہے اور کمرے میں پھیل جاتی ہے۔ شکنیں دور ہوتی ہیں، اور میں انہیں قریب محسوس کرتا ہوں۔