زندگی میں ہر جگہ پھول بکھیرتے چلے جاؤ، ایک جگہ اپنے لئے ایک خوبصورت باغ لگا ہوا پاؤ گے۔

in #lifelast month


image.png

زندگی ایک طویل سفر ہے، جس میں ہم روزانہ نہ جانے کتنے لوگوں سے ملتے ہیں، کتنے راستوں سے گزرتے ہیں اور کتنے دلوں کو چھوتے ہیں۔ اگر اس سفر میں ہم ہر جگہ پھول بکھیرتے چلے جائیں، یعنی محبت، نرمی، خلوص اور اچھے اخلاق کا بیج بوتے رہیں، تو ایک دن ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے اپنے لیے بھی ایک خوبصورت باغ تیار ہو چکا ہے۔

پھول بکھیرنے سے مراد یہ نہیں کہ ہم اپنی خوشیاں قربان کر دیں یا ہر حال میں خود کو نظر انداز کریں، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم جہاں جائیں وہاں آسانی پیدا کریں، مسکراہٹ بانٹیں، کسی کا دل نہ توڑیں اور ممکن ہو تو کسی کے چہرے پر سکون لے آئیں۔ چھوٹے چھوٹے اچھے کام، نرم لہجہ، اور سچی نیت وہ پھول ہیں جو ہم روز بکھیر سکتے ہیں۔

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا بہت خودغرض ہے، اس لیے یہاں اچھا بننے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اچھائی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ شاید وہ فوراً واپس نہ آئے، مگر وقت کے ساتھ وہ کسی نہ کسی شکل میں لوٹ کر ضرور آتی ہے۔ جو محبت ہم دوسروں کو دیتے ہیں، وہ کسی دن ہمارے دل کا سہارا بن جاتی ہے۔

زندگی میں جب مشکلات آتی ہیں تو وہی لوگ ہمارے قریب ہوتے ہیں جن کے راستوں پر ہم نے کبھی پھول رکھے ہوتے ہیں۔ وہ دعائیں، وہ نیک خواہشات اور وہ تعلقات ہمارے لیے سایہ دار درخت بن جاتے ہیں۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے جو بکھیر ا تھا، وہی آج ہمارے لیے باغ بن چکا ہے۔

یہ باغ صرف لوگوں کی صورت میں نہیں ہوتا، بلکہ دل کے اندر بھی تیار ہوتا ہے۔ جب انسان بھلائی کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اتر آتا ہے۔ ضمیر مطمئن رہتا ہے اور زندگی بوجھ نہیں لگتی۔ یہی اندرونی باغ اصل دولت ہے۔

آخرکار زندگی ہمیں وہی لوٹاتی ہے جو ہم اس میں ڈالتے ہیں۔ اگر ہم نفرت، تلخی اور سختی بکھیرتے ہیں تو کانٹے ہمارا مقدر بنتے ہیں، اور اگر محبت، صبر اور خلوص بکھیرتے ہیں تو پھول خود بخود ہمارے قدموں میں آ جاتے ہیں۔ اس لیے زندگی کے ہر موڑ پر پھول بکھیرتے چلے جاؤ، ایک دن اپنے لیے ایک خوبصورت، پرسکون اور مہکتا ہوا باغ ضرور پاؤ گے۔

Sort:  

Upvoted! Thank you for supporting witness @jswit.