ہنر اور ثقافت کی خوشبو — میلے کی شام

in #photography2 months ago

کسی بھی ثقافتی میلے میں گھومنے کا ایک اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔ رنگ، آوازیں، ہلچل، اور لوگوں کی مصروف چہل پہل — سب مل کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جس میں انسان خود کو اپنے ہی شہر میں دوبارہ دریافت کرتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک ہنر مندوں کے میلے کا دورہ کیا، تو دل نے پھر محسوس کیا کہ ایسے میلوں کی رونقیں کیوں کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔ یہ صرف بازار نہیں ہوتے، یہ جیے جاگتے قصے ہوتے ہیں، جن میں ہر چیز اپنی الگ کہانی سناتی ہے۔

میلے کا سب سے خوبصورت منظر ایک بزرگ کاریگر کا تھا جو اپنے چھوٹے سے اسٹال پر خاموشی سے مٹی کا فن تخلیق کر رہا تھا۔ سامنے میز پر چھوٹی چھوٹی مٹی کی بنی چیزیں رکھی تھیں — پھول، پرندے، اور چھوٹے جھولے جیسے ڈیزائن۔ اس کے ہاتھ صدیوں پرانی مہارت کے ساتھ مٹی کو شکل دے رہے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ صرف ایک فن پارہ نہیں بنا رہا بلکہ مٹی میں جان ڈال رہا ہو۔ اردگرد لوگوں کا شور تھا، مگر وہ اپنی ہی دنیا میں گم، ہر پتّی اور ہر پنکھڑی کو انتہائی محبت سے تراش رہا تھا۔

چند قدم آگے بڑھتے ہی میلے کی فضا یک دم زیادہ رنگین اور گہما گہمی سے بھرپور ہو جاتی تھی۔ تھری گفٹ اور ایمبرائیڈری کے اسٹال سجائے گئے تھے، جہاں روایتی سندھی کڑھائی والی چادریں، بیگز، شالیں اور مختلف ہاتھ کے بنے ہوئے سامان لٹکے ہوئے تھے۔ ہر چیز رنگوں سے بھرپور، ہر دھاگہ ایک کہانی لیے ہوئے۔ لوگ رک رک کر چیزیں دیکھ رہے تھے، خواتین کپڑوں کی باریکیوں کو چھو کر کیفیت لے رہی تھیں، بچے حیرت سے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے، اور کچھ لوگ بس چہل قدمی کرتے ماحول کا لطف اٹھا رہے تھے۔

یہ منظر دیکھ کر احساس ہوا کہ ہاتھ کا بنایا ہوا فن آج بھی دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ چیز جو محبت اور محنت سے بنائی گئی ہو، اس کی کشش کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ یہ میلوں کی رونقیں ہمیں ہماری جڑوں، ہماری ثقافت، اور ہماری روایتوں سے جوڑ کر رکھتی ہیں۔

بچوں کے چہروں پر حیرت اور خوشی دیکھنے کا بھی اپنا ہی مزہ تھا۔ شاید یہی لمحات ان کے اندر اپنی ثقافت کی پہچان بٹھاتے ہیں۔ بڑے چاہے خریداری کے لیے آئیں یا وقت گزارنے کے لیے، بچوں کے لیے یہ جگہیں حیرت کا جہان ہوتی ہیں۔

جب میں نے پلٹ کر پورے منظر کو دیکھا — مٹی کا فن تراشتا بزرگ، رنگوں میں ڈوبا روایتی اسٹال، لوگوں کا رش، اور ماحول میں خوشبو بنی ہوئی چہل پہل — تو محسوس ہوا کہ ایسے میلے صرف خریداری کی جگہیں نہیں ہوتے۔ یہ وہ پل ہیں جو نسلوں کو آپس میں جوڑتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارا فن، ہماری روایتیں اور ہمارا ورثہ آج بھی زندہ ہیں، اور انہی ہاتھوں میں سانس لیتے ہیں جو ان کو محبت سے آگے بڑھاتے ہیں۔

میلے سے واپسی پر میں صرف خریدی گئی چیزیں نہیں بلکہ ایک خوشگوار احساس ساتھ لے آیا — وہ احساس کہ ہم اب بھی اپنی ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں، اور جب چاہیں اس سے دوبارہ ملنے جا سکتے ہیں۔

Sort:  

Congratulations, your post has been manually
upvoted by @steem-bingo trail

Thank you for joining us to play bingo.

STEEM-BINGO, a new game on Steem that rewards the player! 💰

Try out the new games on Steem 4.jpg

How to join, read here

DEVELOPED BY XPILAR TEAM - @xpilar.witness