یہ الفاظ محض شکوہ نہیں بلکہ زندگی کے ایک تلخ تجربے کی ترجمانی ہیں

in #poetry2 hours ago

یہ شعر دل کے اُن نازک لمحوں کی عکاسی کرتا ہے جب انسان کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ہر راستہ چلنے کے لیے نہیں ہوتا، اور ہر چاہت کو نبھانا ممکن نہیں رہتا۔
“چھوڑ دیئے مرے سے ساتھ تمنا شانے مگر
پھر تم ہی مل گئے تھے تماشائیوں کے ساتھ”
یہ الفاظ محض شکوہ نہیں بلکہ زندگی کے ایک تلخ تجربے کی ترجمانی ہیں۔

انسان جب کسی کے ساتھ خلوص سے جڑتا ہے تو وہ یہ امید رکھتا ہے کہ سامنے والا بھی اسی شدت اور سچائی کے ساتھ اس رشتے کو تھامے گا۔ مگر وقت بتاتا ہے کہ کچھ لوگ ساتھ صرف تب تک دیتے ہیں جب تک تماشا دلچسپ رہے۔ جیسے ہی آزمائش آتی ہے، وہ پیچھے ہٹ کر تماشائی بن جاتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان اپنے اندر ٹوٹتا ہے، مگر ساتھ ہی بالغ بھی ہو جاتا ہے۔

تمنا کے شانے چھوڑنا دراصل خودداری کا اعلان ہے۔ یہ مان لینا کہ ہر تعلق نبھانے کے قابل نہیں، کمزوری نہیں بلکہ شعور کی علامت ہے۔ انسان جب بار بار ٹھوکر کھا کر بھی خود کو بچانے کا ہنر سیکھ لے تو یہی اس کی اصل کامیابی ہوتی ہے۔ ایسے لمحوں میں دل میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ جو کل تک ساتھ تھے، وہ آج مجمع کا حصہ کیسے بن گئے؟

تماشائی بن جانا آسان ہوتا ہے، ساتھ دینا مشکل۔ ساتھ وہی دیتا ہے جو دل سے جڑا ہو، جو بھیڑ سے الگ ہو کر کھڑا ہونے کی ہمت رکھتا ہو۔ اور جو ایسا نہ کر سکے، وہ چاہے کتنا ہی قریب کیوں نہ رہا ہو، آخرکار بے معنی ہو جاتا ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی تمنا، اپنی عزت اور اپنے دل کی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے۔ ہر ہاتھ تھامنے والا ہمسفر نہیں ہوتا، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے سچ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات چھوڑ دینا ہی سب سے بڑی فتح بن جاتا ہے، کیونکہ یہی چھوڑنا انسان کو خود سے دوبارہ ملا دیتا ہے۔

Sort:  

Upvoted! Thank you for supporting witness @jswit.