محبت اگر دل میں موجود ہو، تو انسان اس کی قدر کم ہی کرتا ہے

یہ جملے دراصل انسانی احساسات کی ایک نہایت سچی اور تلخ تصویر پیش کرتے ہیں۔ انسان کی زندگی میں دولت اور محبت دو ایسے عناصر ہیں جو بظاہر ایک دوسرے کے متضاد دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں دونوں کا تعلق احساس سے جڑا ہوا ہے۔ دولت جب کم ہو تو اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، اور جب زیادہ ہو جائے تو اس کا احساس رفتہ رفتہ مدھم پڑنے لگتا ہے۔ یہی معاملہ محبت کے ساتھ بھی ہے۔
محبت اگر دل میں موجود ہو، تو انسان اس کی قدر کم ہی کرتا ہے۔ وہ اسے معمول سمجھ لیتا ہے، جیسے یہ ہمیشہ یونہی اس کے ساتھ رہے گی۔ انسان تب جاگتا ہے جب محبت ہاتھ سے نکل جاتی ہے، جب وہ چہرے، وہ آواز، وہ توجہ، جو کبھی روزمرہ کا حصہ تھی، اچانک خاموش ہو جاتی ہے۔ تب محبت کا احساس دل پر بوجھ بن کر نہیں، بلکہ خلا بن کر اترتا ہے۔
دولت ہو یا محبت، دونوں کی قدر اکثر ان کے کھو جانے کے بعد ہوتی ہے۔ یہ انسانی فطرت کی ایک کمزوری بھی ہے اور ایک حقیقت بھی۔ ہم موجود نعمتوں کو اپنا حق سمجھ لیتے ہیں اور ان پر شکر ادا کرنے کے بجائے انہیں نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جب کوئی چیز مستقل رہے تو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، مگر جیسے ہی وہ چھن جائے، اس کی کمی ہمیں اندر سے توڑ دیتی ہے۔
اصل دانش یہ ہے کہ انسان چیزوں کے چھننے کا انتظار نہ کرے۔ محبت ہو تو اسے محسوس کرے، سمیٹے، سنبھالے۔ رشتے ہوں تو انہیں وقت دے، کیونکہ احساسات بھی دولت کی طرح ہوتے ہیں؛ اگر ان کی حفاظت نہ کی جائے تو وہ بھی ہاتھ سے پھسل جاتے ہیں۔ عقل مند وہی ہے جو موجود نعمت کی قدر اس وقت کرے جب وہ اس کے پاس ہو، نہ کہ اس وقت جب وہ صرف یاد بن کر رہ جائے۔
Upvoted! Thank you for supporting witness @jswit.